Breast Cancer ki Wajohat Alamat

Breast Cancer ki Wajohat Alamat

چھاتی کا سرطان اہم معلومات اور احتیاط

دنیا بھر کی خواتین میں چھاتی کا کینسر عام ہوتا جا رہا ہے اور ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا کی خواتین کی کل آبادی میں 16 فی صد عورتوں کو بریسٹ کینسر کا عارضہ لاحق ہے۔بریسٹ کینسر سے پوری دنیا میں ہر سال تقریبا 5 لاکھ خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔یہ مرض زیادہ تر پچاس سے ساٹھ سال کی عمر کے درمیان کی عورتوں میں پایا جاتا تھا، لیکن اب کم عمر خواتین بھی اس بیماری میں بہت تیزی سے مبتلا ہو رہی ہیں۔

پاکستان میں خواتین پڑھی لکھی ہوں یا غیر تعلیم یافتہ وہ اپنی صحت کے بارے میں کوئی آگاہی نہیں رکھتی ہیں جبکہ کینسر ایک ایسی بیماری ہے جس کی کوئی خاص علامات ظاہر نہیں ہوتی ہیں۔ ویسے تو بریسٹ کینسر موذی مرض ہے، لیکن اگر شروع سے ہی اس کا علاج کیا جائے تو اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

چھاتی کا سرطان Breast Cancer کی وجوہات

1۔ بریسٹ کینسر سے متاثرہ بعض خواتین میںجینیاتی نقائص دیکھے گئے ہیں۔جنھیں( آربی سی اے) جین میں تبدیلی سے تعبیرکیاجاتاہے۔

2۔ اگرخاندان میں جیسے ماں ،بہن یاوالدوغیرہ اس مرض میں مبتلاہوں تو اس مرض کے لاحق ہونے کاخطرہ بڑھ جاتاہے۔

3۔ بریسٹ کینسرمیں بڑھتی ہوئی عمر اورخواتین کے ہارمونز بھی اہم کرداراداکرتے ہیں۔

4۔ شادی کے بعد بچوں کانہ ہونایاتاخیر سے ہونا بھی اسکاایک سبب ہوسکتاہے۔

5۔ ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی (ایچ آر ٹی) اورمانع حمل گولیوں کااستعمال بھی اس کی وجہ ہوسکتاہے۔

6۔ ماہواری کاجلدی شروع ہونایاسن یاس کادیرسے ہونابھی شامل ہے۔

چھاتی کا سرطان Breast Cancer کی علامات

درج ذیل علامات بریسٹ کینسر کی نشاندہی میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہیں، تاہم علامات ظاہر ہونے کے بعد فوری طور پر اپنے معالج سے رجوع کیا جائے، تاکہ کسی بھی خطرے کے مقابلے کے لیے وقت سے پہلے تیاری کی جاسکے۔

– مسلسل ہڈیوں، جوڑوں، جسم کے دیگر حصوں اور سر میں درد رہنا۔

– وزن کا بڑھنا، کمر کا پھیلنا۔

– چھاتی کے دونوں اطراف کے درمیان واضح فرق ہوجانا۔

– چھاتی کے ارد گرد جلد میں ڈمپل پڑ جانا یا جلد میں جھریوں کا پیدا ہونا۔

– چھاتی کی جلد پر جلد جیسی ایک اور باریک تہ کا بننا۔

– بازوں اور چھاتی کے ارد گرد والی جلد پر زخم جیسے نشانات پیدا ہونا، اور ان سے گندگی کا نکلنا۔

– پیٹ کے اوپر چھاتی کے ارد گرد جسم کے کسی بھی حصے میں مسلسل درد رہنا۔

چھاتی کا سرطان Breast Cancer سے بچاؤ

خواتین کو اس جانب توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، انہیں چاہیے کہ اس سلسلے میں از خود بھی اس بات کا پتا لگاتی رہیں کہ کہیں ان کی چھاتی میں کوئی گلٹی یا رسولی تو نہیں، کوئی گانٹھ تو محسوس نہیں ہورہی یا یہ کہ کچھ بڑھ تو نہیں رہی۔ایسا شبہہ محسوس کرتے ہی فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں اور میمو گرافی کرواکر تسلی کرلیں۔ اگر آپ کے خاندان میں چھاتی کے کینسر کا مرض موجود ہے تو خصوصی طور پر اور بہ صورت دیگر عمومی طور پر چھاتی کا معائنہ ہر چھے ماہ میں ضرور کروائیں اور ممکن ہو تو چھاتی کے لیے کیا جانے والا خاص ایکسرے میمو گرام بھی سال میں ایک مرتبہ ضرور کروالیا جائے تو بہت مفید ہوگا۔

چھاتی کے سرطان سے بچنے کے لیے ماہرین خواتین کو سبز پتوں والی ترکاریاں زیادہ استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں جیسے کہ پالک اور اس کی فیملی کے تمام ساگ اور سبزیاں جیسے مولی، گاجر ، چقندر، شلجم ، ٹماٹر ، توری اور لوکی وغیرہ کا استعمال کریں۔ ان میں وافر مقدار میں جسم میں قوت مدافعت پیدا کرنے والے اجزا پائے جاتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ لہسن اور پیاز خون صاف کرتی ہے اور جسم سے بیماریوں کو بھگاتی ہے۔ ٹماٹر میں وٹامن اے ، بی اور سی کے علاوہ وٹامن ڈی بھی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ فولاد، کیلشیم اور تانبا، گندھک اور معدنی نمکیات کا بھی ذخیرہ ہوتا ہے۔ اس کا استعمال نہایت مفید اور صحت بخش ہے۔

امریکی محققین کے مطابق چھوٹی بچیاں جو متواتر فرنچ فرائز کھانے کی عادی ہوتی ہیں، بلوغت میں داخل ہونے کے بعد چھاتی کے سرطان کے خطرات سے دوچار ہوسکتی ہیں جب کہ ہر ہفتے محض ایک مرتبہ اضافی فرائز کھانے سے چھاتی کے سرطان کے خطرات 27 فی صد تک بڑھ سکتے ہیں لہٰذا اگر بچیاں فرنچ فرائز کی عادی ہیں تو ان کی اس عادت کو ترک کروادیں