Calcium ki kami ka ilaj

Calcium ki kami ka ilaj

کیلشیئم کی کمی سے مسائل اور گھریلو علاج

انسانی جسم قدرت کا ایک انتہائی شاندار شاہکار ہے۔ ایک ایسی مشین جس کے تمام ہی پُرزے اپنی جگہ بے مثال ہیں۔ پورا جسم ایک ایسا سسٹم ہے جو بہت سے چھوٹے چھوٹے سسٹم پر چل رہا ہے۔ اگر کسی ایک چھوٹے چھوٹے سسٹم کو چلنے کے لیے مکمل توانائی نا ملے تو مکمل سسٹم پر اثر ہوتا ہے۔ ہمارے جسم کی تمام ہی ہڈیاں چاہے وہ چھوٹی ہوں یا بڑی اور ہمارے دانت مختلف کیمیکلز سے مل کر بنے ہیں جن کی طاقت کا دارومدار کیلشئم پر ہے۔

کیلشیم کی کمی سے سب سے پہلے جسم میں ہڈیاں اور دانت متاثر ہی ہوتے ہیں‘ ہڈیوں کاچٹخنا‘ ہڈیوں وجوڑوں میں درد ہاتھوں پیروں کامڑجانا یہ سب کیلشیم کی کمی کی علامات ہیں۔ دانت کمزور ہو کر وقت سے پہلے گر جاتے ہیں۔ دانتوں کا ہلنا، کیلشئم کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔

آج کل صرف بزرگ‘ ادھیڑ عمر افراد ہی نہیں نوجوان اور بچے بھی کیلشیم کی کمی کی پریشانی سے دوچار ہورہے ہیں۔ ڈاکٹر زحضرات جسم میں کیلشیم کی کمی کی نشاندہی کرنے کے بعد کیلشیم کی کمی کوپورا کرنے کے لیے ادویہ تجویز کرتے ہیں جوکچھ حدتک ہمارے جسم کو توانائی فراہم کرنے میں مدد کرتی ہیں لیکن ان کا زیادہ استعمال گردوں پر اثرانداز ہوسکتاہے۔ اس لیے قدرتی طریقے سے حاصل کردہ کیلشیم صحت کے لیے زیادہ مفید اور فائدہ مند ثابت ہوتاہے۔

کیلشیم کی کمی دور کرنے والی غذائیں

کیلشیم کی مناسب مقدار جسم کو فراہم کرنے کے لیے کون سی غذائیں کار آمدہیں اور کن قدرتی غذائی اشیاء میں کیلشیم کی مقدار بھرپور ہوتی ہے۔ بوڑھے‘ بچے‘ جوان ان غذاؤں کوکثرت سے استعمال کرکے صحت مند اور چاک وچوبندزندگی گزار سکتے ہیں۔

پتے دار سبزیاں

سبزیاں وپھل ہماری صحت وتندرستی کے ضامن ہوتے ہیں لیکن کیلشیم کمی کودور کرنے کے لیے پتے دار سبزیاں انتہائی مفید ہوتی ہیں مثلاََگوبھی‘ مشروم‘ ساگ‘ بروکلی وغیرہ۔ آپ ان سبزیوں کوباقاعدگی سے اپنے ڈائیٹ پلان میں شامل کرلیں یہ مقررہ کردہ DV کو پورا کرنے میں معاونت فراہم کرتی ہیں۔

پھلیاں

پھلیاں انسانی جسم کوکیلشیم کی بھرپور رسدفراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ سیم کی پھلی‘ مٹر‘ گوار کی پھلی‘ لوبیا کی پھلی وغیرہ میں کیلشیم کے ساتھ پروٹین بھی وافرمقدار میں پایا جاتا ہے۔ لہٰذا خواتین پھلیوں پر مشتمل غذائی روٹین کوزیادہ ترجیح دیں۔

دودھ اور دودھ سے بنی اشیاء

دودھ کیلشیم کی کمی کوپورا کرنے کے لیے نہایت بہترین ٹانک ہے۔ اس میں کیلشیم بڑی مقدار میں پایاجاتا ہے۔ دودھ میں موجود کیلشیم کی خصوصیت ہڈیوں‘ جوڑوں‘ پٹھوں کومضبوط کرنے میں نہایت کلیدی کردار ادا کرتی ہے، اس کے علاوہ ڈیری اشیاء جیسے پنیردہی‘ مکھن‘ وغیرہ بھی جسم کومناسب مقدار میں کیلشیم فراہم کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔