khubani_ki_giri

Khubani ke Giri k Nuqsan

خوبانی کی گری میں زہر کا انکشاف

خوبانی ایک صحت بخش اور مفید پھل ہے جو تقریبا سبھی لوگوں کو پسند ہوتا ہے۔ خوبانی کی اہم بات اس کی گری ہے جو بادام جیسا مزا دیتی ہے۔ اسی لیے کم و بیش سبھی خوبانی کھانے والے اس کی گری بھی شوق سے کھاتے ہیں مگرایسا کرنے سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

برطانوی فوڈ اسٹینڈرڈز ایجنسیی (ایف ایس اے ) کی جانب سے جاری کردہ وارننگ کے مطابق خوبانی کی گری کھانے سے پرہیز کیا جائے کیونکہ اس میں سائنائیڈ سمیت انتہائی زہریلے مادے پائے جاتے ہیں۔

وارننگ کے مطابق خوبانی کی 30 گریاں ایک ہی وقت میں کھا لینے سے انسان کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے، جبکہ 10 سے 15گریاں کھانے والے افراد بھی ہاتھ پاؤں سن ہوجانے اور دیگر شکایات کے بعد اسپتال پہنچ چکے ہیں۔

خوبانی کی گری سے متعلق اب تک یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ اسے کھانا مفید ہے اور یہ کینسر سمیت کئی اقسام کی بیماریوں سے بچاؤ میں مددگارثابت ہوتی ہے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے، خوبانی کی گری صحت کیلئے سنگین خطرے کا باعث بن سکتی ہے حتیٰ کہ اسے کھانے سے فوری موت بھی واقع ہو سکتی ہے کیونکہ گری میں جان لیوا زہر’’سائنائیڈ‘‘ پایا جاتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق خوبانی کی گری میں ایک مادہ ’’امیگدالین‘‘پایا جاتا ہے، جو ’’گیلوکوسیڈسایانوجن ‘‘ کیمیکل کی ایک قسم ہے۔ خوبانی کی گری چبانے سے ہائیڈروجن سائنائیڈ گیس پیدا ہوتی ہے۔ البتہ اگر گری کو پکا لیا جائے تو ایک مخصوص درجہ حرارت پر اس کے زہریلے اثرات ختم ہو جاتے ہیں۔