Gurde ke takleef ke waja

Kidney Gurde ke takleef ke waja

گُردوں کے امراض کی وجوہات

صحت ہزار نعمت ہے۔۔ یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے، لیکن ہم صحت مند رہنے کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں اس پر بھی غور کی ضرورت ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ آج کل کے حالات میں شاید ہم صحت کو نقصان پہنچانے والے کام زیادہ کرتے ہیں۔ آج کے مضمون میں ہم اپنی کھانے پینے کی ان عادات کے بارے میں معلومات حاصل کریں گے (Kidney Gurde ke takleef ke waja) جو ہمارے گردوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

انسانی جسم میں قدرت نے ہر عضو کو ایک مخصوص کام کے لیے بنایا ہے اور صحت کو برقرار رکھنے میں اس کا ایک اہم کردار ہے۔ اسی طرح سے گُردوں کا صحیح طرح سے کام کرنا بھی صحت مند جسم کی بنیاد ہے۔ اگر دونوں میں سے ایک گُردہ میں بھی کسی قسم کی خرابی پیدا ہوگی تو مکمل صحت حاصل نہیں ہوگی۔

گردے ہمارے جسم میں کیا کام کرتے ہیں

گردے ہمارے جسم میں گمنام ہیرو کی طرح ہوتے ہیں جو کچرے اور اضافی مواد کو خارج کرتے ہیں جبکہ یہ نمک، پوٹاشیئم اور ایسڈ لیول کو بھی کنٹرول کرتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر معمول پر رہتا ہے۔ جسم میں وٹامن ڈی کی مقدار بڑھتی ہے اور خون کے سرخ خلیات بھی متوازن سطح پر رہتے ہیں۔

گُردوں کی تکالیف کی علامات Gurde ke takleef ke waja

گردوں کے امراض کافی تکلیف دہ اور جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ گردوں کو ہونے والے نقصان کی علامات کافی واضح ہوتی ہیں تاہم لوگ جب تک ان پر توجہ دیتے ہیں، اُس وقت تک بہت زیادہ نقصان ہوچکا ہوتا ہے۔

کڈنی یا گُردوں کی تکلیف میں مبتلا ہونے کے باوجود زیادہ افراد کو کمر کے نیچے جسم کے پچھلے حصے میں اس وقت تک زیادہ درد محسوس نہیں ہوتا جب تک مرض زیادہ بڑھ نہ جائے، لیکن تھوڑا سا درد ہونے پر بھی ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

گُردوں کی تکلیف کا شکار افراد دن بہ دن کمزور ہوتے جاتے ہیں، ان سے زیادہ محنت طلب کام نہیں ہوپاتا، جب کہ ان کا جسمانی وزن بھی خود بخود کم ہونے لگتا ہے۔

اگر پیشاب میں تکلیف، رکاوٹ یا خون کی آمیزش ہونے لگے تو فوری طور پر معالج کو دکھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں لاپرواہی آپ کو مستقل تکلیف کا شکار کر سکتی ہے۔

گردوں کے امراض کئی بار ہماری اپنی بے احتیاطی کی وجہ سے ہی لاحق ہوتے ہیں یعنی ہماری چند عادات جو بظاہر بہت بے ضرر اور فائدہ مند لگتی ہیں تاہم اس عضو کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔ ذیل میں اُن چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے جو گردوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

پروٹین کا بہت زیادہ استعمال

صحت بخش غذا کے لیے پروٹین بہت اہم ہے مگر اس کا بہت زیادہ استعمال گردوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ درحقیقت بہت زیادہ پروٹین گردوں کو بہت زیادہ کام کرنے پر مجبور کردیتے ہیں جس کا نتیجہ مختلف امراض کی شکل میں نکلتا ہے۔

نمک

ویسے تو کہا جاتا ہے کہ بہت زیادہ نمک بلڈ پریشر بڑھاتا ہے مگر یہ گردوں کو نقصان پہنچانے کا عمل بھی تیز کردیتا ہے، اس کے نتیجے میں گردوں میں پتھری کا خطرہ ہوتا ہے جو کہ شدید درد، پیشاب میں مشکل اور قے و متلی جیسی شکایات کا باعث بنتا ہے۔

تمباکو نوشی

تمباکو نوشی نہ صرف ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس ٹائپ ٹو جیسے امراض کو بدترین بناتی ہے جو کہ گردوں کے امراض کے دو بڑے سبب بھی ہیں، بلکہ یہ گردوں کی جانب دوران خون کو بھی سست کردیتی ہے جس کے نتیجے میں اس عضو کے مسائل زیادہ سنگین ہوجاتے ہیں۔

سافٹ ڈرنکس

اگر آپ روزانہ دو یا اس سے زائد سافٹ ڈرنکس کا استعمال کرتے ہیں تو گردوں کے امراض کی تشخیص پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ ایک تحقیق کے مطابق ڈائٹ مشروبات گردوں کو زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں تاہم میٹھی سافٹ ڈرنکس کے بھی گردوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

پانی کی کمی

گردوں کو ٹھیک طرح سے کام کرنے کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے، اگر جسم میں پانی کی کمی ہوجائے اور خصوصاً ایسا اکثر ہونے لگے تو اس سے گردوں کو نقصان پہنچتا ہے، اگر آپ کے پیشاب کی رنگت زرد ہوجائے تو اس کا مطلب ہے کہ جسم میں پانی کی کمی ہونے لگی ہے۔

درد کش ادویات

بڑی مقدار میں درد کش ادویات جیسے اسپرین یا بروفین وغیرہ کا استعمال بھی گردوں کو نقصان پہنچاتا ہے، اسی لیے ان ادویات کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے سے کرنا چاہیے۔

بہت زیادہ ورزش

بہت سخت اور زیادہ دیر تک ورزش کرنا بھی مسلز کو نقصان پہنچاتا ہے اور ٹشوز کو توڑتا ہے جو کہ خون کے راستے گردوں میں پہنچ کر انہیں نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔

سینے میں جلن کی ادویات

سینے میں جلن پر قابو پانے کے لیے استعمال ہونے والی ادویات معدے میں موجود تیزابیت کو کم کرتی ہیں اور اگر ان کا طویل عرصے تک استعمال کیا جائے تو اس سے گردوں میں سوجن پیدا ہونے لگتی ہے۔