Shoulder Pain Home Remedies

Shoulder Pain Home Remedies

کندھے میں درد کیوں ہوتا ہے

شانے یاکندھے کا درد ایک عام مسئلہ ہے۔ عموماََ یہ درد تھوڑے عرصے تنگ کرتا ہے۔ اور ضروری نقرس (ARTHRITIS) کے باعث ہو۔شانہ ہمارے جسم کا نہایت فعال عضو ہے اور اس کی حرکت میں ” روٹیٹرکف“ نامی عضلات نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان عضلات میں کوئی نقص پیداہوجائے تو شانے میں مختلف مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم کوشش کریں گے کہ آپ کو بتائیں کہ کندھے یا شانہ میں درد کیوں ہوتا ہے اور اس کے لیے گھریلو ٹوٹکے (Shoulder Pain Home Remedies) کیا ہیں۔

شانے کا ہردرد شانے کے جوڑوں میں کسی مسئلے کی وجہ سے پیدانہیں ہوتا، البتہ جب جوڑوں کی تکلیف کے باعث درد ہوتو یہ اکثر شانے کے سامنے والے حصے میں ہوتا ہے یابازو کے اوپری حصے میں محسوس ہوتا ہے۔ پھر یہ درد بازو سے نیچے کہنی میں محسوس ہونے لگتا ہے، لیکن اگر یہ درد کہنی سے بھی نیچے کی طرف بڑھے یاسوئیاں سی چبھتی محسوس ہوں تو عین ممکن ہے کہ اس کا تعلق گردن میں کسی مسئلے سے ہو۔

شانے کے جوڑ سے جو درد اٹھتا ہے، اس کی وجہ اکثر نسوں اورریشوں کی سوزش ہوتی ہے۔ شانے میں نقرس کی شکایت عموماََ نہیں ہوتی۔ کندھوں میں جومسائل پیداہوتے ہیں وہ مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں۔ زیادہ ترایسا ہوتا ہے کہ شانے کو حرکت دینے اور استعمال کرنے سے درد پیداہوتا ہے۔اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ کس طرح کی حرکت سے درد شروع ہوتاہے اورکس طرح حرکت دینے سے کم یازیادہ ہوتا ہے۔ اس طرح آپ بہتر طور پر اندازہ لگاسکیں گے کہ اصل مسئلہ کیا ہے؟

کندھے کا درد دور کرنے کے طریقے

عموماََ ایسا ہوتا ہے کہ شانے کو حرکت نہ دی جائے تو درد سے بچاؤ رہتا ہے، البتہ رات کو سونے کے دوران شانے کے درد کے مریض کو خاصے مسائل کا سامنا رہتا ہے اور بہت سے لوگ اس شانے کی کروٹ سے نہیں لیٹ سکتے، جس میں درد ہے۔ نیز انھیں بستر سے اٹھنے میں اکثر سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر شانے کادرد شدیدیا کسی چوٹ کے سبب نہ ہوتو فوری طورپر معالج سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ درد دور کرنے والی گولیوں اور مانع سوزش دواؤں سے شروع میں کام چلائیے، لیکن اگر چند روز تک ان سے افاقہ نہ ہوتو معالج سے رجوع کیجیے۔ ایک اہم بات اس سلسلے میں یہ ہے کہ اپنے کندھے کو حرکت دینے اور آرام دینے کے درمیان ایک توازن قائم رکھنے کی کوشش کیجیے، تاکہ اس میں اکڑن نہ پیداہونے پائے۔

شانے کے درد میں سب سے اچھی ورزش یہ ہے کہ میزکے قریب کھڑے ہو کراپنا وہ ہاتھ جو ٹھیک ہے، میز کہ میزکے قریب کھڑے ہو کر اپنا وہ ہاتھ جو ٹھیک ہے، میز پرٹکائیے اور دوسرے ہاتھ کو جس میں درد ہے، ڈھیلا چھوڑ دیجیے۔ اس ہاتھ کو پہلے گھڑی کے پنڈولیم کی طرح آگے پیچھے ہلائیے اور پھر اسے ایک دائرے کی شکل میں حرکت دیجیے۔ ایک اور ورزش یہ ہے کہ اپنے ٹھیک ہاتھ سے درد والے ہاتھ کو اوپر اٹھائیے۔ شانے یاہاتھ کو اس طرح حرکت دینے سے گریز کریں، جس سے تکلیف یادرد بہت زیادہ محسوس ہو، خصوصاََ یہ خیال رکھیں کہ درد والے ہاتھوں کو یوں حرکت نہ دیں کہ وہ دیرتک جسم سے دور ہویاکندھے سے اوپراٹھارہے۔ جب اس ہاتھ کو اوپر اٹھائیں تو اس بات کاخیال رکھیں کہ آپ کی کہنی مڑی ہوئی ہو اور جسم کے سامنے کی طرف رہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ جب ہاتھ اوپر پہنچے تو ہتھیلی چھت کی طرف ہو اور ہاتھ کو نیچے لاتے وقت بھی کہنی مڑی ہوئی ہو۔ اپنے اٹھنے بیٹھنے کے انداز کا بھی خیال رکھیے۔ مریض کا دل تو یہ چاہے گا کہ آگے کی طرف جھک کر بیٹھے اور درد والا بازو اس کے جسم سے چپکارہے، لیکن اس طرح تکلیف اور بڑھے گی، خصوصاََ اس صورت میں درد کا کچھ تعلق گردن سے بھی ہو۔ جب مریض بیٹھے تو اسے چاہیے کہ کمر کے نچلے حصے کے پیچھے تکیہ یاکشن رکھ لے اور ہاتھ کو گود میں رکھے ہوئے کشن پر ٹکالے۔ کچھ لوگوں کو کشن یا تہ کیاہوا تولیا بغل میں رکھنے اور اسے دبانے سے آرام ملتا ہے۔ درد والے شانے کے بل سونے سے تکلیف بڑھ جاتی ہوتو ٹھیک شانے کی کروٹ سے اس طرح لیٹے گردن کے نیچے تکیہ رہے ۔ جسم کے سامنے ایک تکیہ دہراکرکے اس پر دکھتا ہوابازو ٹکادیجیے۔ کمر کے پیچھے ایک موٹا ساتکیہ رکھ لیجیے، تاکہ سوتے میں آپ کروٹ بدل کردکھتے ہوئے شانے کے بل نہ لیٹ جائیں۔ اگر آپ کمر کے بل سوناچاہیں تو درد والے شانے اور بازو کے نیچے ایک دو تکیے رکھ لیجیے۔

کندھے میں درد دور کرنے کا گھریلو علاج

سکائی ضرور کریں

کاندھے کے درد کے لئے ٹھنڈی سکائی کافی فائدہ مندہے۔ ٹھنڈی سکائی سے متاثرہ جگہ سن ہو جاتی ہے جو جلن اور تکلیف میں کمی پیدا کرتی ہے۔
پلاسٹک بیگ میں آئس کیوبس ڈالکر پتلے تولیے میں لپیٹ لیں۔ ۔متاثرہ جگہ پر دس سے پندرہ منٹ کے لئے رکھیں۔

گرم سکائی بھی درد کے علاج میں فائدہ مند ہے۔ درد، جلن اور سوجن کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ بہتر ہوگا کہ چوٹ لگنے کے 24 گھنٹے بعد گرم سکائی کی جائے۔ گرم سکائی پٹھوں کے کھنچاؤ میں بھی مفید ہے۔ گرم پانی کی تھیلی میں گرم پانی بھر کر کاندھے کی سکائی کریں ۔ اس کے لئے سکون سے لیٹ جائیں اور دن میں کئی دفعہ دس سے پندرہ منٹ کے لئے سکائی کریں۔

ایپسم سالٹ

ایپسم سالٹ میگنیشئم سلفیٹ سے بنتا ہے۔ درد کو کم کرتا ہے۔ دوران خون کو بہتر بنا کر پٹھوں کے کھنچاؤ کو کم کرتا ہے۔
۔باتھ ٹب کو نیم گرم یا قابل برداشت گرم پانی سے بھریں۔ ۔دو کپ ایپسم سالٹ ڈال کر حل کر لیں۔ ۔ اس پانی میں بیٹھ کر کاندھوں کو پانی میں بیس سے پچیس منٹ تک ڈبوئے رکھیں۔

ہلدی

۔دو چمچ ہلدی اور ایک یا ایک سے زیادہ چمچ کھوپرے کا تیل ملا کر پیسٹ بنا لیں۔ اس پیسٹ کو متاثرہ جگہ پر مل کر سوکھنے دیں۔ نیم گرم پانی سے دھو لیں ۔ دن میں دو دفعہ کریں۔
۔ ایک چائے کا چمچ ہلدی ایک کپ دودھ میں ملا کر ابال لیں۔ شہد ڈال کر میٹھا کرلیں۔ دن میں دو دفعہ پئیں۔

سیب کا سرکہ

۔دو کپ سیب کا خالص سرکہ گرم پانی کے باتھ ٹب میں ملائیں۔ بیس سے تیس منٹ تک اس پانی میں کاندھوں کو رکھیں۔ روزانہ ایک دفعہ کریں۔
۔ایک گلاس گرم پانی میں ایک چائے کا چمچ سرکہ اور تھوڑا سا شہد ملا کربھی دن میں دو دفعہ پی سکتے ہیں۔

ادرک

۔دو سے تین کپ ادرک کی چائے روزانہ پیئیں۔
۔چائے بنانے کے لئے ایک کھانے کا چمچ باریک کٹی ادرک ڈیڑھ سے دو کپ پانی میں دس منٹ تک پکائیں۔چھان کر شہد ملائیں اور پی لیں ۔