tb_ka_ilaj

TB kya hai alamat aur TB ka Ilaj

تپ دق یا ٹی بی، علامات، وجوہات اور گھریلو علاج

ٹی بی ( Tuberculosis ) کو سل اور تپ دق بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک متعدی یعنی ایک سے دوسرے کو لگنے والی بیماری ہے۔ یہ جسم کے کسی بھی حصے میں ہوسکتی ہے مگر عموماً پھیپھڑوں کو نشانہ بناتی ہے۔ ٹی بی کے جراثیم ہوا کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے شخص تک پھیلتےہیں۔ وہ افراد جنکے پھیپڑوں میں فعال ٹی بی ہو وہ کھانسنے، چھینکنے، ہنسنے، بات کرنے یا گانا گانے سے اسکے انفیکشن کو پھیلا سکتے ہیں۔ آج اس مضمون میں ہم آپ کو ٹی بی کے بارے میں اہم معلومات ٹی بی کی وجوہات اور آسان گھریلو طریقہ علاج TB kya hai alamat aur TB ka Ilaj بتایا گیا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان دنیا میں پانچواں ملک ہے جہاں تپ دق کے مریضوں کی تعداد زیادہ ہے۔ پاکستان میں ایک لاکھ افراد میں سے 348افراد تپ دق کے مرض میں مبتلا ہیں اور ہر سال ایک لاکھ میں سے 276افراد اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اگرچہ پاکستان میں تپ دق سے مرنے والے مریضوں کی شرح ہر سال کم ہورہی ہے تاہم نئے مریضوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

تپ دق یا ٹی بی کی علامات

ٹی بی کی عام علامات مندرجہ ذیل ہیں:

– دو ہفتے سے زیادہ کا کھانسی کا رہنا
– بلغم زدہ کھانسی ٹی بی کی خاص نشانی ہے۔ شدید صورت میں کھانسی کے ساتھ خون بھی آتا ہے۔
– دن رات بخار رہنا اور شام کو بخار زیادہ ہونا۔
– بھوک کی کمی
– چھاتی میں مسلسل درد رہنا
– سانس لینے میں تکلیف
– کمزوری بڑھتے جانا
– کھانسی سے آواز کی نالی میں زخم ہو کر آواز کا بیٹھ جانا۔
– رات میں بہت زیادہ پسینہ آنا

بچوں میں ٹی بی کی علامات بڑوں سے مختلف نہیں ہیں۔ بار بار رکام، کھانسی اور سانس کی بیماری ہونے والے بچوں میں ٹی بی کی تشخیص ضروری ہے۔ گلے میں گانٹھ بچوں میں ٹی بی کی خاص علامت ہے۔

ٹی بی جسم کی کن اعضاء میں ہوسکتی ہے؟

سب سے زیادہ ٹی بی کا اثر پھیپھڑوں پر ہوتا ہے۔ دوسرے متاثر ہونے والے اعضا میں ہڈیاں، آنتیں، ٹانسلز، جلد، گردے اور تولیدی اعضاء بھی شامل ہیں۔

چاہے ٹی بی کسی بھی اعضاء میں ہو، علامات ایک ہی قسم کی ہوتی ہیں۔ لیکن آنتوں کی ٹی بی میں پیٹ میں گیس کا گولہ بننا، بدہضمی، پیٹ پھولنا خاص علامات ہیں۔

گردوں کی ٹی بی میں پیشاب میں خون آنا اور گردوں میں سوجن آنا خاص علامات ہیں۔ ٹی بی کا مرض کئی ناموں سے پکارہ جاتا ہے۔ برسوں تک یہ مرض برداشت کرتے کرتے جسم ہڈیوں کا بنجر رہ جاتا ہے کہ آخر کار مرض ٹھیک نا ہو تو مریض فوت ہوجاتا ہے۔ ایکسرے کرانے سے اس مرض کا علم ہوجاتا ہے۔

ٹی بی کی بیماری کی وجوہات

ٹی بی یا تپ دق کے جراثیم، مریض کی بلغم یا تھوک میں ہوتے ہیں، جن سے یہ مرض ہوا، پانی، دودھ کے ذریعے پھیلتا ہے۔ گندی ہوا، گیلے مقامات، سانس کے ساتھ دھول کے ذرات اندر جانا، متوازن غذا کا نا ہونا، وقت سے زیادہ محنت کرنا، شراب پینا، ٹی بی کے مریض کے ساتھ کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا وغیرہ وجوہات سے یہ مرض پھیلتا ہے۔

ٹی بی یا تپ دق کا غذا سے علاج TB ka Ilaj

ٹی بی کے مریض کی غذا پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بلکہ غذا کو بھی علاج ہی سمجھنا چاہیے۔ سورج کی روشنی، صاف ہوا، غذائیت سے بھرپور غذا اور مکمل آرام ملنا مریض کے لیے ضروری ہے۔ ٹی بی کے مریضوں کا یہاں درج چیزوں سے بہت فائدہ ہوگا۔

– ایک گلاس دودھ میں 5 پیپل ڈال کر ابالیں، اور پھر ٹھنڈا ہونے پر چینی یا شکر ڈال کر روزانہ صبح و شام پیئیں۔ اس سے کھانسی، نزلہ، زکام، دمہ، پھیپھڑوں کی کمزوری ٹی بی کی ابتدائی حالت میں فائدہ فائدہ ہوتا ہے۔

– تپ دق مرض میں مکھن، مصری میں دودھ ملا کر کھانے سے تپ دق مرض کا خاتمہ ہو کر قوت ملتی ہے۔

– تپ دق میں جس مریض کو لگاتار بخار رہتا ہو، انہیں گیارہ پتے تلسی، نمک، زیرہ، سونٹھ ایک گلاس گرم پانی میں لیموں کا رس 25 گرام ملا کر روزانہ تین بار کچھ دن پینا چاہیے۔

– تپ دق میں سیب کھانا مفید ہے، آنتوں جگر اور دماغ کو تقویت دیتا ہے۔

– ایک کپ آم کے رس میں 60 گرام شہد ملا کر صبح شام دوبار روزانہ پلائیں۔ روزانہ گائے کا دودھ تین بار پلائیں۔ اس طرح 21 دن کرنے سے تپ دق میں فائدہ ہوتا ہے۔

– منقہ، پیپل، دیسی چینی ہموزن پیس کر ایک چمچ صبح و شام کھانے سے تپ دق اور کھانسی سے نجات حاصل ہوتی ہے۔

– کیلے کے درخت کا تازہ رس، یا سبزی بنانے والا کچا کیلا، مرض کو دور کرنے میں تیر بہدف ہے، جن لوگوں کو تپ دق کا مرض ہوچکا ہو، تکلیف دہ کھانسی آتی ہو، جس سے زیادہ مقدار میں بلغم نکلتی ہو، وزن بہت زیادہ گر گیا ہو ان کو کیلے کے موٹے تنے کے ٹکڑے کا رس نکال کر اور چھان کر ایک دو تازہ کپ رس ہر دو گھنٹے بعد گھونٹ گھونٹ کر کے پلایا جائے، تین دن روزانہ رس پلانے سے مریض کو بہت آرام ملتا ہے۔ کیلے کا رس ہر چوبیس گھنٹے بعد تازہ ہی نکالنا چاہیے۔