Uric Acid Detail in Urdu

Uric Acid Detail in Urdu

Our body creates uric acid when it breaks down purines which are chemicals found in many foods or are created in our body naturally. When the kidneys can’t eliminate the uric acid from your body we get crystals that get accumulated around our joints, causing pain and swelling.

Here is a great informative article on Uric Acid causes, symptoms and Home remedies in Urdu Language.

یورک ایسڈ اہم معلومات اور کنٹرول کرنے کے طریقے

یورک ایسڈ کی زیادتی کیوں ہوتی ھے؟ اور اس کی زیادتی سے کیا علامات اور مرض پیدا ھوتا ھے؟ اور اس کی جسم میں سطح کس طرح سے تناسب میں لائی جاسکتی ہے؟ ان سب سوالوں کے جوابات آج ہم آپ کے لیے خاص طور پر لائےہیں۔ اگر آپ اس تکلیف میں مبتلا ہیں تو ضرور عمل کریں اور اگر کوئی اور آپ کے جاننے والے شکار ہیں تو ان تک ضرور یہ معلومات پہچائیں۔

یورک ایسڈ کیا ہے؟

یورک ایسڈ جیسا کہ نام سے سے ظاہر ہےایک قلمی تیزاب ہے جو قدرتی طور پر ہر انسان کے خون میں موجود ہوتا ہے اور زائد پیشاب کے زریعے خارج ہوتا ہے یہ پانی میں حل نہیں ہوتا لیکن الکلائن نمکیات میں با آسانی حل ہوجاتا ہے۔ دراصل یہ نیوکلیک ایسڈ میٹابولزم ہے اور عام طور پر جسم میں موجود نیوکلیک ایسڈ کے ٹوٹنے پھوٹنے کی وجہ سے وجود میں آتا ہے۔ پیورین کے ٹوٹنے کی وجہ سے جسم میں یورک ایسڈ بنتا ہے جو خون سے گردوں تک پہنچتا ہے اور گردوں سے پیشاب کے ذریعے جسم سے باہر نکلتا ہے ۔جب یورک ایسڈ جسم سے باہر نہ نکلے تو یہ جسم کے اندر چھوٹے چھوٹے کرسٹل کی شکل میں جوڑوں میں جمع ہونے لگتا ہے۔ اس کی وجہ سے جوڑ بے کار ہو جاتے ہیں اور مریض کا چلنا پھرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے ۔

یورک ایسڈ کیوں بڑھتا ہے؟

انسانی جسم میں یورک ایسڈ کی زیادتی کی وجہ یا تو جسم میں یورک ایسڈ کا زیادہ بننا ہے یا پھر اس کا جسم سے کم خارج ہونا ہے ۔ بعض اوقات یہ دونوں وجوہات مل کر بھی یورک ایسڈ میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ جینیاتی (Genetic) خرابیاں اور خاص قسم کا خامرہ (Enzyme) ہائپوزینتھین گوانین فاسفوریبوسائل ٹرانسفریز(HPRT) کی کمی یا زیادتی یا فاسفوریبو سائل پائیرو فاسفیٹ سینتھیٹیز کی زائد کارکردگی بھی خون میں یورک ایسڈ کی شدید زیادتی کا سبب بن سکتے ہیں۔ یورک ایسڈ بڑھنے کا تعلق صرف غیر صحت بخش غذا کھانے سے نہیں ہے بلکہ یورک ایسڈ ذہنی امراض اور دل کے جملہ امراض ہونے کے باعث بڑھ سکتا ہے ۔یورک ایسڈ کو کنٹرول کرنے کے لئے چند عادات کو ترک کرنا پڑتا ہے اور چند غذائی عادات کو اپنی روز مرہ زند گی میں شامل کرنا پڑتا ہے۔

یورک ایسڈ بڑھنے کی علامات کیا ہیں؟

۔جوڑوں میں درد ہونا، گانٹھے پڑنا، پیر کے انگوٹھوں میں سوجن، جوڑوں میں سوجن وغیرہ۔ اکثر مریض کے ٹخنے،ایڑھی،پائوں کے انگوٹھے اور انگلیوں میں درد ہوتا ہےجو آہستہ آہستہ تمام جوڑوں کو متاثرکرتا ہے جوڑوں میں سوجن اورمتورم ہونے لگتے ہیں اکثردرد کی زیادتی کی وجہ سے چلنا پھرنا دشوارہو جاتا ہےخون میں تزابیت بڑھ جاتی ہے نیند کم ہو جاتی ہے پیشاپ کم،گاڑھا،گدلا،اورشدید تیزابی ہوتا ہے اگر اس کا صحیح حل نا کیا جائے توگردوں میں پتھری بن جاتی ہے۔

یورک ایسڈ احتیاط اور گھریلو علاج

بڑا گوشت، تلی ہوئی مرغن چیزیں،سرخ مرچ، بریانی، پراٹھا، کولڈنکس، ٹھنڈا پانی،خشک میوہ جات وغیرہ سے مکمل پرہیز ہے۔ کدو، ٹینڈے، شلجم، توری، گهیا کدو، گاجر وغیرہ دیسی گهی میں پکا کر اور کالی مرچ و کالا نمک ڈالکر پکائیں اور گندم کی روٹی استعمال کریں۔

– ایک درمیانہ سائز کا آلو لے لیں اس کو چھیل کر اچھی طرح کچل کر اس کا رس نکال لیں۔ ایک گلاس پانی میں حل کر کے پی لیں۔ یہ عمل روزانہ کم از کم بیس دن تک کریں۔

– آدھا چائے کا چمچ بیکنگ سوڈا ایک گلاس پانی میں حل کر کے دن میں ایک دفعہ پئیں ۔ہائی بلڈ پریشر اور 60 سال کی عمر سے زائد افراد ڈاکٹر کے مشورے سے اس ٹوٹکے پر عمل کریں۔

– عام طور پر ذیابطیس کے مریضوں کا یورک ایسڈ جلد بڑھ جاتا ہے اور وہ ایسی غذا نہیں کھا پاتے جس سے یورک ایسڈ کنٹرول میں آتا ہے۔ لہذا ایسے مریض جو ہر پھل اور ہر سبزی نہیں کھا پاتے انھیں روزانہ ایک گاجر اور تین کھیروں کا رس نکال کر پینا چاہئے۔ اس جوس سے شوگر بھی کنٹرول ہو گی اور یورک ایسڈ بھی کنٹرول ہو گا۔

– ایلو ویرا جیل میں آنولے کا رس ملا کر پینے سے بھی یورک ایسڈ کی زیادتی کے باعث ہونے والا جوڑوں کا درد دور ہوتا ہے

– ناریل پانی یورک ایسڈ کے لیول کو کنٹرول کرنے میں بڑا ثر دار ہوتا ہے

– ایک چمچ شہد اور ایک چمچ اسوگا ندھا پائوڈر ملا کر ایک گلاس نیم گرم پانی یا دودھ میں ملا کر پینے سے یورک ایسڈ کنٹرول ہوتا ہے

– کھانے کے بعد دو سے تین چمچ السی کے بیج چبا چبا کر کھانے سے بھی یورک ایسڈ کنٹرول ہوتا ہے

– اگر یورک ایسڈ بڑھنے سے گنٹھئے کا درد ہو تو بتھوے کے پتوں کا جو صبح خالی پیٹ پئیں اور دو گھنٹے تک کچھ نہ کھائیں پئیں ۔

– کھانوں میں اجوائن کا استعمال کریں

– ایک درمیانے سائز کے کچے پپیتے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے بیج الگ کر لیں ان ٹکڑوں کو دو لیٹر پانی میں ۵ سے ۷ منٹ تک پکائیں اس پانی میں ایک چمچ گرین ٹی کے پتے بھی ڈال دیں ۔پانی دن میں دو سے تین بار چائے کی طرح استعمال کریں ۔