Watermelon Tarbooz ke faide in Urdu

Watermelon Tarbooz ke faide in Urdu

تربوز کھائیں اور صحت کے فائدے اٹھائیں

موسم گرما میں بہت سے شاندار، مزیدار اور لاجواب ذائقے والے پھلوں کی پیداوار ہوتی ہے۔ جن میں آم، چیکو، خربوزہ، تربوز، خوبانی، آلو بخارہ وغیرہ ہیں۔ ہر پھل اپنے ذائقے اور خوشبو میں بے مثال ہے۔ ان ہی پھلوں میں سے ایک تربوز بھی ہے۔

تربوز کو پنجابی میں ہندوانہ، عربی میں بطیخ، حجازی میں جھب، انگریزی میں واٹر میلن اور ترکی میں تاجور کہتے ہیں۔ موسمی پھلوں میں موسم گرما کا تحفہ’تربوز‘ بہت سے ایسے ہی حیرت انگیز طبی فواید سے بھرپور ہے جن کے بارے میں لوگ بہت کم جانتے ہیں۔ آج ہم تربوز کے غذائی اور طبعی فائدوں کو آپ کے سامنے پیش کریں گے۔

تربوز میں موجود وٹامنز اور معدنیات

وٹا من اے اور سی کی خوبیوں سے مالا مال تربوز انسانی جسم میں نمکیات کی کمی دور کرنے، جسمانی درجہ حرارت کو معمول پر رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ غذائی خواص اور پوٹائیشیم جیسی خصوصیات سے لبریز تربوز آپ کو تندرست اور چاقوچوبند رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ تربوز میں پانی کی مقدار تقریباً 92% تک ہے۔ تربوز میں فلیونائیڈز،کیروٹینائیڈز اور ٹرائی ٹر پیونائیڈز پائے جاتے ہیں جو کہ معدے کی تیزابیت کے لئے بہت مفید ہیں۔

تربوز کے فائدے

تربوز نہ صرف ذائقہ کے لحاظ سے منفرد ہے بلکہ بہت ساری بیماریاں بھی اس کے کھانے سے ٹھیک ہو جاتی ہیں۔ تربوز سرخ رنگ کی وجہ سے بھی بھلا لگتا ہے۔ تربوز نہ صرف ہماری جسمانی صحت کے لئے اچھا ہے بلکہ ہماری روح کو بھی تازگی دیتا ہے۔ تربوز گرمی کے موسم میں پیاس بجھاتا ہے۔ تربوز جہاں ہماری پیاس کو کم کرتا ہے وہاں ہمارے جسم میں پانی کی کمی کو بھی پورا کرتا ہے۔

– تربوز کے علاوہ اس کے بیج بھی مفید ہیں ماہرین طب کے مطابق تربوز کے بیج جلد،ذیابیطس اور دل کے لئے بے حد مفید ہیں۔ یہ دل میں خون کے بہاؤ کو بہتر بنانے میں مدد گار ہے اور اس سے دل کے پٹھوں کو بھی طاقت ملتی ہے۔

– ماہرین کا کہنا ہے کہ تربوز میں وٹامن B6 کی وافر مقدار ہوتی ہے جو دماغ کو تقویت دینے کے ساتھ ساتھ قوت حافظہ کو بہتر بناتی ہے۔ تربوز کا پانی معدے میں جاتا ہے مگر اس کے اثرات دماغ پر مرتب ہوتے ہیں اور دماغ کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

– ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ تربوز میں Cucurbitacin E پایا جاتا ہے جو کہ سینے کی جلن میں بہت زیادہ آرام دیتا ہے۔اس کے کھانے سے معدے میں موجود فاسد مادے نکل جاتے ہیں اور ہمارا معدہ تروتازہ اور بالکل ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہے۔

– تربوز میں وٹا من A کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے جو آنکھوں کے لیے انتہائی مفید ہے۔ تربوز کے کثرت استعمال سے آنکھوں کی تمام بیماریاں دور ہوتی اور بینائی بہتر ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معدے کے امراض کا بھی تدارک ہوتا ہے۔

– تربوز ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے اس کے کھانے سے ہڈیوں کی بیماری آسٹیو پروسس سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ یہ بیماری انسانی ہڈیوں کو کمزور کر دیتی ہے۔اس کے علاوہ تربوز کے بیج اندرونی زخموں کو جلدٹھیک ہونے میں مدد کرتے ہیں۔

– تربوز میں فائبر کی اچھی مقدار پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے یہ نظام انہضام کے لئے بہت مفید ہے۔ تربوز گردے میں پتھری اور قبض کو دور کرنے میں مدد گار ہے۔

– ماہرین کا خیال ہے کہ تربوز کے استعمال سے پٹھوں کی تکالیف میں مبتلا افراد کو بھی آرام ملت ہے۔ چونکہ تربوز سیٹرولین پیدا کرنے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شریانوں اور خون کی نالیوں کی صفائی اور ان کے نظام کو بہتربناتے ہوئے پٹھوں کو بھی تقویت دیتا ہے۔

تربوز کھانے میں احتیاط

چاول کے ساتھ تربوز کا استعمال مضر ہوتا ہے، یعنی چاول کھانے سے پہلے یا فوری بعد میں تربوز نہیں کھانا چاہئے۔ تربوز کو کھانا کھانے کے فوری بعد استعمال نہ کیا جائے، اس صورت میں یہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور خصوصاً ہیضہ کی شکایت ہوسکتی ہے۔ تربوز کھانا کھانے سے کم از کم ۲ گھنٹے پہلے یا ۲ گھنٹے بعد کھانا چاہیئے۔ کھانے کے فوری بعد اس کے استعمال سے قولنج (پیٹ کا درد) یا تخمہ کا احتمال ہے۔ تربوز کھانے کے فوری بعد پانی نہیں پینا چاہیے کیونکہ تربوز میں بہت زیادہ مقدار میں پانی پایا جاتا ہے۔